کس کو شک ہے کہ باپ بیٹیوں کی پرورش کریں؟ بس یہ ہے کہ ہر ایک کے طریقے مختلف ہیں۔ شاید اسے گلے میں ڈال کر چودنا ایک انتہائی طریقہ ہے، لیکن کم از کم وہ یہ سمجھے گی کہ والد صاحب انچارج ہیں اور اس گھر میں صرف ان کا ڈک منہ میں لیا جا سکتا ہے۔ آرڈر ہی آرڈر ہے۔ اور اس نے اس کی آنکھ میں جو نطفہ مارا وہ لڑکی کی یاد کو تازہ کر دے گا۔
میرے خیال میں صرف خاندان کے سربراہ کی کمی تھی یا وہ نفسیاتی صدمے کا شکار ہوا جب اسے معلوم ہوا کہ خاندانی بے حیائی کیا ہے اور اس کے گھر والے اپنی فرصت میں کیا کرتے تھے اور بھاگ جاتے تھے۔